LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 اہلکار شہید نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے: امیر مقام میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم، کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث اٹک پل اور راستوں کی بندش کے خلاف کیس امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک

علی ظفر کے میشا شفیع کیخلاف ہتک عزت کے دعویٰ کی کارروائی مکمل

Web Desk

26 March 2026

لاہور: ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات کی عدالت میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر کردہ 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے کی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت میں فریقین کے وکلاء نے اپنے حتمی زبانی اور تحریری دلائل پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد کیس کا فیصلہ کن مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

سماعت کے دوران جج آصف حیات نے ریمارکس دیے کہ اگر 30 مارچ کو کسی قانونی نکتے پر مزید معاونت کی ضرورت پڑی تو وکلاء سے رجوع کیا جائے گا، بصورتِ دیگر اسی تاریخ کو فیصلے کے اعلان کا دن مقرر کر دیا جائے گا۔ علی ظفر نے یہ دعویٰ 2018 میں اس وقت دائر کیا تھا جب میشا شفیع نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جسے علی ظفر نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مہم قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ کیس پاکستانی شوبز انڈسٹری کا سب سے طویل اور ہائی پروفائل ہتکِ عزت کا مقدمہ بن چکا ہے، جس میں اب تک درجنوں گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور متعدد مرتبہ اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔ اب سب کی نظریں 30 مارچ پر لگی ہیں جب عدالت اس تاریخی کیس کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔