LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

علی ظفر کے میشا شفیع کیخلاف ہتک عزت کے دعویٰ کی کارروائی مکمل

Web Desk

26 March 2026

لاہور: ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات کی عدالت میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر کردہ 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے کی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت میں فریقین کے وکلاء نے اپنے حتمی زبانی اور تحریری دلائل پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد کیس کا فیصلہ کن مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

سماعت کے دوران جج آصف حیات نے ریمارکس دیے کہ اگر 30 مارچ کو کسی قانونی نکتے پر مزید معاونت کی ضرورت پڑی تو وکلاء سے رجوع کیا جائے گا، بصورتِ دیگر اسی تاریخ کو فیصلے کے اعلان کا دن مقرر کر دیا جائے گا۔ علی ظفر نے یہ دعویٰ 2018 میں اس وقت دائر کیا تھا جب میشا شفیع نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جسے علی ظفر نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مہم قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ کیس پاکستانی شوبز انڈسٹری کا سب سے طویل اور ہائی پروفائل ہتکِ عزت کا مقدمہ بن چکا ہے، جس میں اب تک درجنوں گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور متعدد مرتبہ اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔ اب سب کی نظریں 30 مارچ پر لگی ہیں جب عدالت اس تاریخی کیس کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔