LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

ہتک عزت کیس: عدالت نے میشا شفیع کو 50 لاکھ جرمانہ کر دیا

Web Desk

31 March 2026

لاہور: لاہور کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کو مسترد کر دیا اور انہیں 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس کیس کی کارروائی 8 سال تک جاری رہی، جس کے دوران 9 ججز تبدیل ہوئے اور مجموعی طور پر 283 پیشیاں بھگتی گئیں۔ کیس کے دوران دونوں جانب سے 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کے دعوے کو ‘ڈگری’ کرتے ہوئے قرار دیا کہ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں مدعی کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے سوشل میڈیا پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں علی ظفر نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین اور سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔