LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

ہتک عزت کیس: عدالت نے میشا شفیع کو 50 لاکھ جرمانہ کر دیا

Web Desk

31 March 2026

لاہور: لاہور کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کو مسترد کر دیا اور انہیں 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس کیس کی کارروائی 8 سال تک جاری رہی، جس کے دوران 9 ججز تبدیل ہوئے اور مجموعی طور پر 283 پیشیاں بھگتی گئیں۔ کیس کے دوران دونوں جانب سے 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کے دعوے کو ‘ڈگری’ کرتے ہوئے قرار دیا کہ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں مدعی کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے سوشل میڈیا پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں علی ظفر نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین اور سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔