LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

وراثتی جائیداد کی مالیت اپیل کے فورم کے تعین میں مؤثر نہیں ہوتی: عدالت

Web Desk

19 June 2026

لاہور ہائیکورٹ نے وراثتی سرٹیفکیٹ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وراثتی جائیداد کی مالیت اپیل کے فورم کے تعین میں مؤثر نہیں ہوتی۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ جانشینی (سکسیشن) سرٹیفکیٹ سے متعلق مقدمات میں اپیل کا فورم کسی عام دیوانی قانون کے تحت نہیں بلکہ سکسیشن ایکٹ کے تحت ہی طے کیا جائے گا۔ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ سکسیشن سرٹیفکیٹ کے کیسز پر عام دیوانی مقدمات کی مالی حد (Pecuniary Jurisdiction) لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ سکسیشن ایکٹ ایک خصوصی قانون (Special Law) ہے جو دیگر عام قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔

عالیہ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے محض مالی دائرہ اختیار کی بنیاد پر اپیل واپس کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا اور یہ ایک واضح قانونی غلطی ہے۔ اسی بنا پر ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست منظور کر لی اور جانشینی سرٹیفکیٹ سے متعلق اپیل کو دوبارہ اصل نمبر پر بحال کر کے میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ وراثتی مقدمات میں اپیل کے فورم سے متعلق پائے جانے والے قانونی ابہام کو دور کرنا انتہائی ضروری تھا تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں ماتحت عدالتوں اور سائلین کو درست قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔