LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری

آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری

Web Desk

19 June 2026

فلسطین کی سنگین ہوتی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) میں جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مسلم امہ کی سطح پر ایک بہت بڑا اور اہم سفارتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے آٹھ بڑے اور بااثر عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک انتہائی اہم مشترکہ تزویراتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔اس مشترکہ اعلامیے میں شامل اسلامی بلاک کی قیادت، اٹھائے گئے تزویراتی مطالبات اور اصولی موقف کی تفصیلات درج ذیل ہیں:مشترکہ اعلامیے میں شامل آٹھ اسلامی و عرب ممالکاس اعلیٰ سطحی سفارتی پوزیشن میں درج ذیل ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں:پاکستان (Pakistan)سعودی عرب (Saudi Arabia)متحدہ عرب امارات (UAE)ترکیہ (Türkiye)مصر (Egypt)قطر (Qatar)انڈونیشیا (Indonesia)اردن (Jordan)مساجد پر حملے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوزرائے خارجہ نے رام اللہ کے شمال میں واقع فلسطینی دیہاتوں میں مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے:مقدس مقامات کی بے حرمتی: اعلامیے میں جیلجیلیا گاؤں کی گرینڈ مسجد اور مزارعہ النوبانی کی ‘الفاروق مسجد’ پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کو مذہبی مقامات کی سنگین ترین بے حرمتی اور ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔عالمی قوانین کی پامالی: وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ شہریوں اور ان کی عبادت گاہوں پر یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔عدم استحکام کی بڑی وجہ: اعلامیے میں صراحت کی گئی ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کے یہ منظم حملے اور غیر قانونی توسیعی اقدامات خطے میں مستقل عدم استحکام اور سیکیورٹی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔عالمی برادری سے تزویراتی مطالبات اور اسرائیل کی ذمہ داریاسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس پورے بحران اور معصوم شہریوں کے جان و مال کے نقصان کا ذمہ دار براہِ راست اسرائیلی حکومت کو ٹھہرایا ہے اور عالمی فورمز کے لیے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:عالمی برادری کے لیے تزویراتی مطالباتبنیادی مقصد اور مطلوبہ نتائجاستثنیٰ (Impunity) کا خاتمہمساجد اور معصوم فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث انتہا پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین جوابدہ بنایا جائے۔اسرائیل پر دباؤ کا مطالبہعالمی برادری اور اقوامِ متحدہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے اسرائیل کو یہ وحشیانہ تشدد فوری طور پر روکنے پر مجبور کرے۔کشیدگی میں فوری کمیمغربی کنارے میں جاری فوجی آپریشنز، زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔فلسطین کے سیاسی حل پر اصولی موقف کا اعادہآٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) میں ہی مضمر ہے۔سفارتی روڈ میپ کے تحت درج ذیل بنیادی اصولوں پر دوبارہ زور دیا گیا ہے:حقِ خودارادیت کی حمایت: فلسطینیوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بنیادی حقِ خودارادیت کی بھرپور اور بلا مشروط تائید کی جائے گی۔1967 کی سرحدیں: 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مکمل آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔مشرقی یروشلم دارالحکومت: مسلم امہ کے اس متفقہ اعلامیے میں دو ٹوک انداز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم (East Jerusalem) کو ہی آزاد فلسطینی ریاست کا مستقل دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔عرب امن منصوبہ: خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ‘عرب امن منصوبے’ (Arab Peace Initiative) اور بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے مطابق مسئلے کا حتمی حل نکالا جائے۔