LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شرجیل میمن کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت حتمی مالکان کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس پاک چین تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت آزاد کشمیر کی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ سکیورٹی کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش سرکاری سکولوں میں سبزیوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت ایران سے کشیدگی، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی بڑھا دی اقوام متحدہ کا ایران میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا این ڈی ایم اے کا آئندہ 72 گھنٹوں کے لیے ملک گیر الرٹ: بالائی علاقوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خدشہ افغان سرحد کی بندش اور خلیجی تنازع سے 3 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہوئی: وزیر تجارت جام کمال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کا اعادہ، صوبوں کو فوری فراہمی کی ہدایت عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا

امریکا نے اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دیدی

Web Desk

31 January 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس منظوری میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹرز اور 1.98 ارب ڈالر کی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے علاقے پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گی جس میں غزہ بھی شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا، سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ ضروری ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہوتی، غزہ پر سکیورٹی کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس رہے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل اس وقت ممکن ہوئی جب حماس نے تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا اور ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کیں، جن میں آخری مقتول یرغمالی ران گویلی کی لاش کی واپسی بھی شامل ہے۔