LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

امریکا نے اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دیدی

Web Desk

31 January 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس منظوری میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹرز اور 1.98 ارب ڈالر کی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے علاقے پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گی جس میں غزہ بھی شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا، سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ ضروری ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہوتی، غزہ پر سکیورٹی کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس رہے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل اس وقت ممکن ہوئی جب حماس نے تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا اور ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کیں، جن میں آخری مقتول یرغمالی ران گویلی کی لاش کی واپسی بھی شامل ہے۔