ڈینگی، ملیریا و دیگر ٹیسٹ عوام کی پہنچ سے دور، لیبارٹریاں الگ الگ قیمتیں وصول کرنے لگیں
Web Desk
10 December 2025
یہ لیبارٹریاں مختلف اقسام کی مختلف کٹس استعمال کررہی ہیں، سرکاری سطح پر طبی ٹیسٹوں کی قیمتوں کا تعین آج تک نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی خون کے ٹیسٹ کے لیے کٹس کے استعمال کے حوالے سے کوئی یونیفارم پالیسی تشکیل دی جاسکی
یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں قائم چھوٹی چھوٹی لیبارٹریاں غیر معیاری اور سستی کٹس استعمال کررہی ہیں جن کے نتائج بھی مشکوک ہوتے ہیں۔کراچی سمیت سندھ بھر میں آج بھی سیکڑوں لیبارٹریاں رجسٹریشن کے بغیر کام کررہی ہیں جبکہ بیشتر لیبارٹریز میں عملہ بھی مکمل تربیت یافتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات مریضوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر حضرات طبی ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں علاج تجویز کرتے ہیں لیکن محکمہ صحت نے غیر معیاری کٹس کے استعمال اور طبی ٹیسٹوں کی مد میں زائد رقومات لینے والے کے خلاف کارروائی کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، طبی مافیا غریب مریضوں سے علاج و معالجے کا حق بھی چھین رہا ہے اور حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی
متعلقہ عنوانات
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026
نجی میڈیکل کالجز کو سرکاری اداروں سے زیادہ نشستیں دینے کا تاثر درست نہیں: پی ایم ڈی سی
30 September 2026
ریبیز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد اموات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
30 September 2026