LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط بانی پی ٹی آئی کے علاج پر لچک نہ دکھانا سمجھ سے بالاتر ہے: سلمان اکرم راجہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کو متفقہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ گیسولین قیمتوں میں اضافے کی وجہ آبنائے ہرمز نہیں، روس یوکرین جنگ ہے: ٹرمپ آئی سی سی نے 4 سینئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری ‘پبلک’ کر دیئے ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت

پاکستان میں بھی موٹاپا کم کرنے والے انجیکشنز کا استعمال بڑھنے لگا

Web Desk

30 August 2026

کراچی: پاکستان میں موٹاپے کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ تیزی سے وزن گھٹانے والے انجیکشنز (Weight-loss Injections) کے استعمال کا رجحان انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سیاستدانوں، شوبز اداکاروں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بعد اب عام شہریوں میں بھی ان ادویات کا استعمال عام ہو چکا ہے۔

میمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے شعبہ اینڈوکرنولوجی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم نعیم کے مطابق مغرب کے بعد اب ایشیائی ممالک میں سیماگلوٹائڈ (Semaglutide)، لیراگلوٹائڈ (Liraglutide) اور ٹرزیپٹائڈ (Tirzepatide) جیسی ادویات کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ادویات انسان جسم میں موجود GLP-1 ہارمون کے اثرات کی نقل کرتے ہوئے بھوک کو کم کرتی ہیں اور پیٹ بھرنے کا احساس دلاتی ہیں۔ بعض انجیکشنز ہفتے میں صرف ایک بار استعمال ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ندیم کے مطابق ان کے کلینک میں 12 سے 70 سال کی عمر کے تقریباً 5 ہزار افراد یہ انجیکشنز استعمال کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ہر فرد کے لیے موزوں نہیں اور صرف انجیکشن کے بجائے پراپر ڈائٹ، ایکسرسائز اور طبی معائنے پر مشتمل مکمل پلان ضروری ہے۔

دوسری جانب کلینیکل ڈائٹیشن سحرش عتیق نے کہا ہے کہ ان انجیکشنز کے استعمال کے دوران متوازن غذا کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ شدید بھوک ختم ہونے کی صورت میں بھی جسم کو درکار پروٹین، فائبر اور پانی کی مناسب مقدار لازمی فراہم کی جائے تاکہ وزن گھٹانے کے عمل کے دوران جسمانی کمزوری، پٹھوں کے نقصان اور غذائی قلت سے بچا جا سکے۔