LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

تربوز دل کی صحت کے لیے مفید ، سائنسدانوں کی تحقیق میں اہم انکشاف

Web Desk

17 May 2026

نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تربوز کا استعمال دل اور خون کی شریانوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جرنل نیچر میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق تربوز میں موجود قدرتی اجزا اور اینٹی آکسیڈنٹس دل کی شریانوں اور جسم کے میٹابولک نظام کے لیے فائدہ مند ہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ تربوز میں موجود مرکبات جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے خون کی شریانیں بہتر طریقے سے پھیلتی ہیں اور خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔

ایک کلینیکل ٹرائل میں 18 صحت مند افراد کو دو ہفتوں تک روزانہ تربوز کا جوس استعمال کرایا گیا، جس کے بعد ان کی قلبی صحت میں بہتری کے آثار دیکھے گئے۔

ماہرین کے مطابق تربوز میں لائیکوپین نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو تکسیدی تناؤ کو کم کر کے دل کی صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ان فوائد کی مکمل تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔