LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

نمک کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے: تحقیق

Web Desk

6 April 2026

وینڈر بلٹ یونیورسٹی کی ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نمک (سوڈیم) کا زیادہ استعمال براہِ راست اور دیگر طبی عوامل سے قطع نظر ‘ہارٹ فیلئر’ (دل کی ناکامی) کا باعث بن سکتا ہے۔ 25 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق، روزانہ تجویز کردہ 2300 ملی گرام کی حد کے بجائے شرکاء اوسطاً 4269 ملی گرام نمک استعمال کر رہے تھے، جو کہ مقررہ مقدار سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غذا میں نمک کی ہر اضافی 1000 ملی گرام مقدار پہلی بار ہارٹ فیلئر کے خطرے میں 8 فیصد اضافہ کر دیتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر زیادہ نمک کھانے والوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ نمک کے استعمال میں معمولی کمی بھی خاص طور پر ہائی رسک گروپس میں دل کے امراض کے عالمی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔