LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

ذیابیطس کے نئے علاج کی آزمائش، متعدد مریض شفایاب

Web Desk

30 March 2026

شکاگو: طبی تحقیق کی تاریخ میں ایک بڑا سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسن ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کے محققین نے اعلان کیا ہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا متعدد مریض کامیاب آزمائش کے بعد مکمل طور پر شفایاب ہو گئے ہیں۔ ٹائپ 1 ذیابیطس، جو کہ ایک آٹو امیون بیماری ہے اور جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے، اب اس کا علاج ‘آئیلٹ خلیات’ (Islet Cells) کی پیوند کاری میں تلاش کر لیا گیا ہے۔

اس تجرباتی آزمائش میں 10 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جو شدید نوعیت کی ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار تھے۔ محققین نے ان کے جسم میں آئیلٹ خلیات (جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے والے ہارمونز بناتے ہیں) کی پیوند کاری کی۔ حیرت انگیز طور پر، محض چار ہفتوں کے اندر تمام 10 مریضوں کے جسم نے خود سے انسولین بنانا شروع کر دی، جس کے بعد انہیں مہنگے انسولین انجیکشنز اور خون میں شوگر لیول کی مسلسل نگرانی سے مستقل نجات مل گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق، یہ طریقہ علاج ‘ڈائبیٹک کیٹو ایسیڈوسِس’ جیسی جان لیوا حالتوں، گردوں کی خرابی اور دل کے دورے کے خطرات کو ختم کرنے میں کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے، لیکن محققین پرامید ہیں کہ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج دنیا بھر کے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے عام دستیاب ہوگا۔