LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

سول ہسپتال مٹھی میں 8 ماہ میں 480 نوزائیدہ بچے جاں بحق

Web Desk

8 September 2026

سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر کے ہیڈکوارٹر مٹھی میں واقع سول ہسپتال میں رواں سال کے پہلے 8 مہینوں کے دوران غذائی قلت، پیدائشی طور پر کم وزن اور دیگر وبائی بیماریوں کے باعث 480 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ ہسپتال کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق جنوری سے اگست 2026ء تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 2,732 بچوں کو داخل کیا گیا۔ ماہانہ اموات کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 70، فروری میں 39، مارچ میں 54، اپریل میں 47، مئی میں 65، جون میں 75، جولائی میں 69 اور اگست کے مہینے میں 61 نوزائیدہ بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔

سرکاری دستاویزات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ اسی 8 ماہ کے عرصے کے دوران 1,387 بچوں کو علاج کے بعد صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کیا گیا، جبکہ 106 بچوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں حیدرآباد اور کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔ واضح رہے کہ تھرپارکر میں بچوں کی مسلسل اموات کے پیچھے ماؤں میں شدید غذائی قلت، کم عمری کی شادیاں اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین عوامل شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بھیانک صورتحال پر سول ہسپتال مٹھی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) نے حقائق فراہم کرنے سے گریز کیا اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، جو علاقے میں ہیلتھ کیئر کے بگڑتے ہوئے نظام کو بے نقاب کرتا ہے