LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول : سعودیہ وزیرِ خارجہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناقابل قبول، حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے: وزیراعظم تربیتی مشق کے دوران بحری حادثہ: قازق بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر سمیت 5 افسر گرفتار بلاول بھٹو سے چوہدری یاسین اور راجہ پرویز اشرف کی الگ الگ ملاقاتیں ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی

12 سال کی عمر میں اپنا اسمارٹ فون رکھنا بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

Web Desk

26 September 2026

طبی جریدے ‘جاما نیٹ ورک اوپن’ (JAMA Network Open) میں شائع ہونے والی ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق 12 سال کی عمر میں اپنا ذاتی اسمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں کھانے سے متعلق خرابیوں (Eating Disorders) کی علامات ظاہر ہونے کا امکان ان ہم عمر بچوں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس اپنا فون نہیں ہوتا۔ امریکہ بھر کے تقریباً 9 ہزار کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم عمری میں اسمارٹ فون کی دستیابی کا براہِ راست تعلق کھانے کے غیر صحت مند رویوں سے جڑا ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (UCSF) کے شعبہ اطفال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیسن ناگاٹا کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون بچوں کو ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل کر دیتا ہے جہاں ظاہری شکل و صورت، جسمانی ساخت اور وزن پر مرکوز مواد کی بھر مار ہوتی ہے۔ انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ بچے کو اسمارٹ فون دینا محض ڈیوائس تھمانا نہیں بلکہ اسے ان تمام پیغامات تک رسائی دینا ہے جو اس میں ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، زیادہ خوراک کھانے (Binge Eating) اور کھانے کی خرابیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج فی الحال اسمارٹ فون کے استعمال اور علامات کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، حتمی طور پر سبب بننے کا سائنسی ثبوت فراہم کرنے کے لیے مزید مطالعہ جاری ہے۔