پلاسٹک کی بوتل سے خطرناک بیماری کی دوا تیار
Web Desk
18 March 2026
یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنس دانوں نے ایک ایسی جدید تحقیق پیش کی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین نے پلاسٹک کے کچرے کو ایک حیاتیاتی عمل کے ذریعے ایسی دوا میں تبدیل کر دیا ہے جو پارکنسنز (رعشہ) جیسی اعصابی بیماری کے علاج میں معاون ثابت ہوگی۔
تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے ‘ای کولی’ (E. coli) نامی بیکٹیریا کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل (Engineer) کیا ہے کہ وہ غذا اور مشروبات کی پیکجنگ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک ‘پی ای ٹی’ (PET) کو توڑ کر اسے ‘ایل-ڈی او پی اے’ (L-DOPA) میں بدل دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ‘ایل-ڈی او پی اے’ وہ بنیادی جز ہے جو پارکنسنز کے مریضوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جس میں پلاسٹک کچرے کو براہ راست ایک قیمتی دوا بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکنسنز کی ادویات بنانے کے روایتی طریقے فاسل فیول (Fossil Fuels) پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ پلاسٹک کا یہ ری سائیکلنگ عمل نہ صرف سستا ہے بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی انتہائی پائیدار ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں فضلے کے خاتمے اور سستی ادویات کی فراہمی میں بڑی مدد ملے گی۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026