LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خلیجی جنگ میں لاپتہ افراد کی تلاش اور شناخت کا عمل تیز کرنے پر زور نیویارک میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب: مسئلۂ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور UN قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر

انسداد پولیو کے قطرے نہ پلانے پر والدین کے خلاف کارروائی ہوگی ، قومی اسمبلی میں قانون منظور

Web Desk

14 May 2026

پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے قومی اسمبلی نے سخت ترین قوانین کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔ نئے قانون کے مطابق، 10 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پولیو ویکسین کی تمام ڈوزز مکمل کرنا ضروری ہوگا اور والدین کو نادرا سے باقاعدہ ‘پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ’ حاصل کرنا ہوگا۔قانون میں ویکسین سے انکار کرنے والے والدین یا سرپرستوں کے لیے بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ پہلی بار انکار پر 50 ہزار روپے اور دوسری بار انکار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، تعلیمی اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ 10 سال سے کم عمر بچوں سے داخلے کے وقت پولیو سرٹیفکیٹ طلب کریں۔ اس سرٹیفکیٹ کے بغیر شہریوں کو مختلف سرکاری امور کی انجام دہی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے تحفظ کے لیے بھی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیو ٹیموں پر حملہ کرنے، انہیں ڈرانے یا دھمکانے والے افراد کو 7 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ حکومت خطرناک علاقوں میں ٹیموں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گی اور ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خصوصی ‘معاونتی فنڈ’ بھی قائم کیا جائے گا۔ بل کے تحت وفاقی دارالحکومت کے لیے پانچ سالہ قومی انسدادِ پولیو حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ پولیو ویکسینیشن سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت کا اختیار صرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے، اسی لیے حکومت نے اس مہلک وائرس کی جڑیں کاٹنے کے لیے ان ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔