تمام وائرس صحت کیلئے نقصان دہ نہیں، کچھ فائدہ مند بھی ہوسکتےہیں، تحقیق
Web Desk
6 January 2026
طبی جریدے مائیکروبائل بائیوٹیکنالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تمام بیکٹیریا اور وائرس انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے بلکہ کئی مائیکروبز ہماری صحت کے لیے نہایت فائدہ مند کردار ادا کرتے ہیں۔
آسٹریلیا کی فائنڈرز یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیک رابنسن کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق ہر مائیکروب بیماری کا سبب نہیں بنتا، بلکہ بہت سے مائیکروبز انسانی جسم کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ماحولیاتی مائیکرو بایومز اور قدرتی حیاتی کیمیائی عناصر سے واسطہ پڑنے سے مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے۔
ڈاکٹر جیک رابنسن کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی نقطۂ نظر تنوع کو ختم کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرتا ہے، کیونکہ متنوع ماحولیاتی نظام صحت بخش ماحول کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند مائیکروبز مدافعتی نظام کی ترتیب، میٹابولزم، بیماریوں سے بچاؤ، ذہنی دباؤ میں کمی اور ماحولیاتی استحکام میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک صدی تک ہوا میں موجود مائیکروبز اور کیمیائی مرکبات کو انفیکشن اور آلودگی کا سبب سمجھا جاتا رہا، تاہم نئی تحقیق اس غیر مرئی حیاتیاتی تنوع کو سامنے لاتی ہے جو انسانی صحت کے لیے فعال طور پر معاون ثابت ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق مائیکروبز جلد اور تولیدی صحت کے لیے مفید ہیں، ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں، غذائی اجزا کے بہتر ہاضمے، سوزش میں کمی اور خون میں شوگر کے بہتر کنٹرول میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جسم میں موجود مائیکروبز کے مجموعے کو مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے، جس میں فنگی، الجی، بیکٹیریا، وائرس، پروٹوزوا، آرکی اور پرایون شامل ہیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن کا کہنا ہے کہ صحت مند مائیکروبز کی بحالی سے ہم متعدد طبی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مائیکروبز وٹامن بنانے، ہاضمے میں مدد دینے اور مدافعتی نظام کو تربیت دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ جیسے حیاتیاتی تنوع کا نقصان انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے، اسی طرح مائیکروبیل اور حیاتی کیمیائی دولت کا تحفظ اور فروغ ایک صحت مند مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026