LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

فلو کی تمام اقسام سے تحفظ دینے والا نیزل سپرے تیار

Web Desk

6 February 2026

سائنسدانوں نے ایک نیا ناک کے ذریعے استعمال ہونے والا اینٹی انفلوئنزا سپرے تیار کیا ہے جو مختلف قسم کے فلو وائرس سے بچاؤ میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت موسمی انفلوئنزا کی وباؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی فراہم کرتی ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے CR9114 نامی اینٹی باڈی تیار کی ہے، جسے ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائلز میں صحت مند رضاکاروں پر یہ بات سامنے آئی کہ سپرے سے اینٹی باڈیز وائرس سے جڑ کر اسے ناکارہ بناتی ہیں اور انسانی لیے محفوظ و قابل برداشت ہیں۔

143 شرکا پر کیے گئے دو ٹرائلز میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اینٹی باڈی سپرے ہر نظام الاوقات اور خوراک میں محفوظ ہے، اور یہ انسانوں میں انفلوئنزا کے خلاف مؤثر مدافعتی تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

محققین نے تجرباتی نیزل سپرے کو بندروں پر بھی ٹیسٹ کیا، جس سے پتہ چلا کہ دن میں دو بار سپرے کرنے سے انفلوئنزا A اور B دونوں کے خلاف بہترین تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ علاج شدہ رضاکاروں کی ناک سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز لیب میں وائرس کے ساتھ جڑ کر اسے ناکارہ کر سکتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے ملاگن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کی امیونولوجسٹ ازابیل مونٹگمری کے مطابق، ناک کے ذریعے اینٹی باڈی کی فراہمی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائرس کے داخلے کی جگہ پر اینٹی باڈیز کی زیادہ مقدار فراہم کرتی ہے۔ تاہم، یہ اینٹی باڈیز ناک کی سطح سے تیزی سے ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے یہ ویکسین کی جگہ نہیں لے گی بلکہ وبا کے دوران قلیل مدتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

یہ سپرے موسمی انفلوئنزا کے ابتدائی پھیلاؤ کے مراحل میں ویکسین کے ساتھ معاون ثابت ہو سکتا ہے اور انفلوئنزا کے خلاف نئی حفاظتی حکمت عملی کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔