LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سوڈانی وزیر داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق بلاول بھٹو کی لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت پاکستان اور روس کے درمیان بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کیخلاف اہم معاہدہ حافظ نعیم الرحمٰن کا کراچی میں گراؤنڈ کا افتتاح، کھلاڑیوں کو تحریک چلانے کا مشورہ روس میں بٹ کوائن سمیت 3 کرپٹو کرنسیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے 8 اصول طے کر دیئے تاجر برادری کے مطالبے پر جنوری میں مزید مال گاڑیاں چلائیں گے: وزیر ریلوے تھر کے کوئلے کی پیداوار بڑھا کر صنعتی ترقی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے: شرجیل میمن تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے: بلاول بھٹو سیاست میں ڈائیلاگ ضروری، پہلے پی ٹی آئی خود متحد ہو: فیصل کریم کنڈی امریکا نے ڈیڑھ سال میں مذاکرات کے چاروں ادوار سبوتاژ کیے: باقری کنی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے: دفتر خارجہ وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردیں وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی

جی ایل پی ون ادویات سے ذیابیطس کا خطرہ 31 فیصد کم ہونے کا انکشاف

Web Desk

6 November 2026

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس سے قبل کی کیفیت (پری ڈائیبیٹیز) کا شکار افراد میں ‘جی ایل پی-1’ (GLP-1) ادویات کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنٹفک سیشنز 2026 میں پیش کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق، 104 طبی اداروں کے 2010 سے 2023 تک کے ہیلتھ ریکارڈز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ سیمیگلوٹائیڈ اور ٹرزیپاٹائیڈ جیسے جی ایل پی-1 فارمولے میٹفارمن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر وینیسیئس ڈی سوسا بارزون سیرا کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیلئر کے واقعات میں کمی آئی جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بھی 41 فیصد کم دیکھا گیا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ قیمتوں اور انشورنس کی منظوری میں مشکلات کے علاوہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، جسے فی الحال ابتدائی نتائج قرار دیا جا رہا ہے۔