LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملتان: یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک مڈ ٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، ریپبلکنز کے لیے خدشات بڑھ گئے ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں رکوانے کا مطالبہ سعودی و کویتی وزرائے خارجہ کی حوثی حملوں اور دھمکیوں کی مذمت یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران لاہور: مضرِ صحت دودھ پینے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق، ایک کی حالت تشویشناک روس امریکی تجاویز سننے کیلئے تیار، لیکن سیاسی رعایتیں نہیں دیں گے: سرگئی لاوروف پوتن اور امریکی حکام کی جلد ملاقات متوقع، روس کا جوہری تخفیف اسلحہ پر مذاکرات بحال کرنے پر زور حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر روس کی امریکا پر شدید تنقید

مٹاپے کا سبب بننے والے پانچ نئے جینز دریافت

Web Desk

5 December 2025

تازہ ترین مطالعے میں محققین نے ایک درجن سے زیادہ جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان کے مٹاپے میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جینز میں پانچ بالکل نئی دریافت ہیں۔

مٹاپہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس، قلبی مرض اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی سحت کی پیچیدہ کیفیات کےخطرات میں اضافہ کرتا ہے۔جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا جن کے آبا و اجداد کا تعلق چھ برِاعظموں سے تھا اور ان میں 13 جینز پائے گئے جن کا تعلق مٹاپے سے تھا۔ان جینز میں سے آٹھ ایسے تھے جو ماضی کے مطالعوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن دیگر پانچ جینز ایسے ہیں جن کی شناخت پہلی بار کی گئی ہے۔ ان جینز میں YLPM1, RIF1, GIGYF1, SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے اہم جینز کو سامنے لانے کے بعد مؤثر دوا بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو شاید ایک قسم کی آبادی پر کیے جانے والے مطالعے میں ممکن نہیں تھی۔