LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس اپوزیشن جان بوجھ کر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کی آخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے: حکومتی مؤقف ایمان مزاری اور شوہر کے خلاف فرد جرم ٹل گئی معاشی استحکام بنیادی ضرورت، برآمدات پر توجہ دے رہے ہیں: محمد اورنگزیب 9 مئی کیسز: علیمہ خان اور عظمیٰ خانم کی عبوری ضمانت میں توسیع پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان نائجیریا میں فوجی طیارہ دریا کے قریب گر کر تباہ، تمام 32 افراد جاں بحق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے امریکی رہنما رچرڈ گرنیل کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ: “انہیں فوری رہا کیا جائے ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری پر حملوں کا حوثی دعویٰ، سعودی اتحاد کی بحیرہ احمر پر جوابی کارروائی امریکا میں پاکستانی نژاد تحرک کی حمایت: پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکا کی غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری

حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 858 ارب روپے قرض لے لیا

Web Desk

24 December 2025

دستاویزات کے مطابق صرف نومبر میں حکومت نے 144 ارب روپے کا قرض حاصل کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مجموعی طور پر 741 ارب روپے قرض لیا گیا تھا۔ اس طرح رواں مالی سال جولائی سے نومبر کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں 117 ارب روپے زائد قرض لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر میں اکتوبر 2025 کے مقابلے میں 4 کروڑ ڈالر اضافی قرض حاصل ہوا، جس میں 31 کروڑ 45 لاکھ ڈالر باہمی اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت لیے گئے، جبکہ 19 کروڑ 69 لاکھ ڈالر نئے پاکستان سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں 198 ارب روپے، اگست میں 192 ارب روپے، ستمبر میں 124 ارب روپے اور اکتوبر میں 133 ارب روپے کا قرض لیا گیا۔اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرضوں میں یہ اضافہ حکومتی مالی ضروریات اور جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے کیا گیا ہے۔