LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری ہیں، امید نہیں چھوڑی: شہباز شریف سعودیہ کی حمایت کی تو امریکا بھی ہمارے نشانے پر ہوگا: حوثیوں کی دھمکی 8 ممالک کی آبنائے ہرمز میں سمندری راستوں کی رکاوٹ کی مذمت، ناقابل قبول قرار جعلی اندراج کا الزام: ٹرمپ انتظامیہ کا افورڈیبل کیئر ایکٹ (اوباما کیئر) کے 7 لاکھ 60 ہزار صارفین کو نکالنے کا اعلان برنی سینڈرز نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیدیا معاشی بحران اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی: امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کو بڑی برتری کا امکان توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت کے نئے رولز 2026 نافذ جنرل اسمبلی اجلاس، ایرانی صدر کی سکیورٹی امریکی سیکرٹ سروس کے سپرد صدر پوتن، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، کریملن لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی پاکستان کےنئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بیرونی قرضوں میں 23 فیصد اضافہ افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

سانحہ پمز کے بعد وفاقی ہسپتالوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرانے کی تیاری

Web Desk

1 September 2026

اسلام آباد: پمز (PIMS) ہسپتال کے ناخوشگوار واقعہ کے بعد وفاقی وزارتِ صحت نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی اور آپریشنل نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی امور میں موجود خامیوں کی نشاندہی، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA) کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں ہسپتالوں کے آپریشنز کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور مانیٹرنگ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

منصوبے کے تحت ہسپتالوں کا کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے اے آئی (AI) ایجنٹس شہریوں کی شکایات موصول کریں گے اور ان کا خودکار انداز میں اندراج اور ازالہ ممکن بنائیں گے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ عوامی صحت کے شعبے میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔