LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

خواتین میں 45 سال کے بعد جگر میں چربی بڑھنے کی وجہ سامنے آگئی

Web Desk

5 April 2026

ماہرین امراضِ نسواں کے مطابق خواتین میں پینتالیس سال کی عمر کے بعد جگر میں چربی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے، جس کی بنیادی وجہ ہارمون ایسٹروجن کی کمی قرار دی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تولیدی عمر کے اختتام کے بعد جسم میں ایسٹروجن کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث چربی کی تقسیم میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ اس دوران کولہوں اور رانوں میں جمع ہونے والی چربی پیٹ اور اندرونی اعضا کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ان کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں انسولین کے اثرات کم ہو جاتے ہیں، جس سے جگر میں چربی جمع ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ابتدائی مراحل میں یہ بیماری خاموش رہتی ہے اور وزن میں واضح اضافہ بھی نہیں ہوتا، جس کے باعث اکثر خواتین بروقت تشخیص نہیں کر پاتیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کیفیت کے نتیجے میں ذیابیطس، دل کے امراض اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لہٰذا خواتین کو اپنی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔