LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کیلئے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو

جگر کے عام ترین مرض کے پھیلاؤ ایک بڑی ممکنہ وجہ دریافت

Web Desk

12 October 2026

جگر پر چربی چڑھنے کا مرض (Fatty Liver Disease) ایک دائمی اور سنگین عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہے۔ طبی زبان میں اسے ‘نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز’ (NAFLD) بھی کہا جاتا ہے، جو جگر کے امراض کی سب سے عام ترین قسم ہے۔ اس بیماری میں جگر غیر معمولی مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے، اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جگر مکمل طور پر ناکارہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے جیسے دیگر میٹابولک امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تاہم اب امریکی سائنسدانوں نے اس بیماری کے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے کی ایک انتہائی چونکا دینے والی اور نئی وجہ دریافت کی ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا کی ‘ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی’ کے محققین کی جانب سے کی جانے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پلاسٹک کی سب سے عام قسم ‘پولی تھین’ (Polythene) سے خارج ہونے والے مائیکرو و نینو ذرات جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

معتبر سائنسی جریدے ‘سائنس ایڈوانسز’ (Science Advances) میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، پولی تھین کے یہ ننھے ذرات انسانی جگر میں داخل ہو کر چربی کے ذخیرہ ہونے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد چکنائی، میٹھے، کولیسٹرول اور فاسٹ فوڈ سے بھرپور ناقص غذاؤں کا استعمال کرتا ہے، تو ان پلاسٹک ذرات کی موجودگی جگر کو پہنچنے والے نقصان کو دوگنا کر دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر پولی تھین کو انسانی جسم کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی اور ناقص غذائی عادات مل کر جگر کے افعال کو متوقع سے کہیں زیادہ تیزی سے تباہ کر رہی ہیں۔ عالمی تخمینے کے مطابق دنیا کی 25 فیصد آبادی اس مرض سے متاثر ہے، اور اس نئی دریافت کے بعد ماہرین نے پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے اور غذائی پرہیز پر زور دیا ہے۔