ذیا بیطس کی علامت اور الزائمرز کے خطرے میں تعلق دریافت
Web Desk
18 January 2026
ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ خون میں شوگر کی مقدار میں اضافہ، جو ذیا بیطس اور پری-ڈائیبیٹیز کی ایک عام علامت ہے، الزائمرز بیماری کے خطرے کو بڑھانے سے منسلک ہے۔
یونیورسٹی آف لیورپول کی تحقیق کے مطابق وہ افراد جن کے خون میں کھانے کے بعد شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ان کے بعد کی زندگی میں الزائمرز میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ خون میں شوگر خاص طور پر اس وقت بڑھتی ہے جب گلوکوز کی مقدار فوری طور پر زیادہ ہو جائے اور دیر تک بلند رہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو میسن کا کہنا ہے کہ نتائج مستقبل میں اس کیفیت سے بچاؤ کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلڈ شوگر کو قابو کرنا اہم ہے، لیکن خصوصاً کھانے کے بعد شوگر کو قابو میں رکھنا زیادہ ضروری ہے۔
یہ تحقیق صحت مند غذا اور بلڈ شوگر کنٹرول کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے، اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ذیا بیطس کے شکار افراد کو الزائمرز سے بچاؤ کے لیے اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایڑی کا درد نظر انداز نہ کریں، کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟
4 October 2026
وزن میں کمی کے دوران جسم کی زائد چربی کہاں جاتی ہے، حیران کُن جواب
4 October 2026
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026