LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم

جسمانی سرگرمی ڈپریشن کے جینیاتی خطرے کے اثرات کم کرنے میں مددگار قرار

Web Desk

29 October 2026

امریکا میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے ورزش اور جسمانی سرگرمی ڈپریشن کے جینیاتی خطرے سے جڑی علامات کی شدت کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

محققین نے اس مطالعے کے دوران وسیع پیمانے پر سروے، الیکٹرانک طبی ریکارڈز، جینیاتی معلومات اور ‘فٹ بِٹ’ (Fitbit) جیسے سمارٹ آلات سے حاصل ہونے والے جسمانی سرگرمی کے ڈیٹا کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد زیادہ متحرک طرزِ زندگی گزارتے ہیں، ان میں ڈپریشن کے جینیاتی خطرے اور اس کی علامات کی شدت کے درمیان پایا جانے والا تعلق نسبتاً کمزور دیکھا گیا، یعنی ورزش اس خطرے کے اثرات کو زائل کرنے میں مؤثر ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دماغی افعال کو بہتر بنانے، جسمانی سوزش (Inflammation) کو منظم کرنے اور ذہنی دباؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس تحقیق کے مصنف ڈینور براؤن کا کہنا ہے کہ جینیاتی خطرے کی نوعیت کو سمجھ کر اور اپنے طرزِ زندگی میں مناسب مثبت تبدیلیاں لا کر ڈپریشن سے بچاؤ اور اس کی علامات کے موثر انتظام میں خاطر خواہ مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم, محققین نے یہ واضح بھی کیا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو ڈپریشن کے مکمل علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے ڈپریشن کے خطرات اور علامات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اور مفید معاون حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ معروف سائنسی جریدے ‘نیچر مینٹل ہیلتھ’ (Nature Mental Health) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں مجموعی طور پر 23 ہزار 517 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے