LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی خدشات: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں ادیس ابابا پہنچ گئیں، وطن منتقلی کے انتظامات جاری حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، کامیابی کے دعوے، مشترکہ اعلامیہ جلد متوقع ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان

موسمِ سرما میں وٹامن ڈی کی ڈوز فلو سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

Web Desk

22 January 2026

کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید کالر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے فالج کے مریضوں کو دوبارہ اپنی آواز میں بولنے کے قابل بناتا ہے۔

اس اے آئی ڈیوائس، جسے ری وائس (ReVoice) کا نام دیا گیا ہے، پہننے والے کے سپیچ سگنلز اور جذباتی اشاروں کو ڈی کوڈ کر کے ٹوٹے اور غیر واضح الفاظ کو دوبارہ قابلِ فہم آواز میں تبدیل کرتی ہے۔ اس طرح مریض قدرتی انداز میں گفتگو کر سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر لوئیگی اوچی پنٹی کے مطابق موجودہ اسسٹیو اسپیچ ٹیکنالوجیز یا تو غیر مؤثر ہیں یا ان کے لیے خطرناک دماغی امپلانٹس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ری وائس کالر ایک محفوظ اور آسان حل پیش کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر مریض وقت کے ساتھ اپنی زیادہ تر یا مکمل بولنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے پیچیدہ دماغی امپلانٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔