پنجاب میں پیدائش و اموات کے ڈیجیٹل اندراج کیلئے نادرا اور محکمہ بلدیات کے درمیان معاہدہ
Web Desk
26 December 2025
محکمہ صحت و آبادی، حکومتِ پنجاب نے پنجاب بھر کے سرکاری صحت مراکز میں پیدائش اور اموات کی بروقت اور درست اطلاع و اندراج کے لیے ایک تاریخی سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدہ محکمہ صحت و آبادی، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، محکمہ بلدیات و کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے درمیان طے پایا، جس کا مقصد سرکاری صحت مراکز کو ڈیجیٹل طور پر باہم مربوط بنانا اور درست ڈیٹا کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
مفاہمتی یادداشت کی تقریب محکمہ صحت و آبادی کے کمیٹی روم، برڈ ووڈ روڈ لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ سرکاری حکام، صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری صحت نادیہ ثاقب اور پارلیمانی سیکرٹری صحت عاصمہ ناز عباسی نے شرکت کی۔ تقریب کا انعقاد نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پنجاب نے کیا۔
سیکرٹری صحت نادیہ ثاقب نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نادرا کے پیدائش اور اموات کے ڈیجیٹل نظام کو سول رجسٹریشن اور دیگر اہم شماریاتی نظام کے ڈیش بورڈز سے مربوط کرنا اور اسے بلدیاتی اداروں کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ الیکٹرانک طبی ریکارڈز کو محفوظ ڈیٹا شیئرنگ نظام کے تحت نادرا کے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے درست اور بروقت معلومات کی فوری دستیابی ممکن ہو سکے گی۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے تمام شراکت دار محکموں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اس معاہدے سے سرکاری صحت مراکز میں پیدائش اور اموات کا بروقت، درست اور حقیقی وقت میں اندراج ممکن ہوگا، جس سے صحت کی منصوبہ بندی، نظم و نسق اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
یہ اقدام عالمی بینک کے تعاون سے جاری قومی صحت معاونتی پروگرام کے تحت مقررہ نتائج کے حصول میں معاون ثابت ہوگا اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی معلوماتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تمام شراکت دار محکموں نے پائلٹ مرحلے کے دوران قریبی تعاون اور بعد میں صوبہ بھر میں نظام کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔
قبل ازیں محکمہ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ انفارمیشن خالد شریف نے شرکاء کو حقیقی وقت میں ڈیٹا جمع کرنے کے طریقہ کار اور نادرا کے ساتھ معلومات کے تبادلے پر تفصیلی بریفنگ دی، اور بتایا کہ پنجاب کے سرکاری صحت مراکز میں الیکٹرانک طبی ریکارڈز چوبیس گھنٹے بنیادوں پر درج کیے جا رہے ہیں
متعلقہ عنوانات
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026