LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے خام تیل سستا کردیا، قیمتیں 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں آبنائے ہرمز میں بحری ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگیا، جہاز میں آگ بھڑک اٹھی حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ میرا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمہ دار ایران ہے: ٹرمپ امریکا مذاکرات نہیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے: صدر مسعود پزشکیان سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری

بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے

Web Desk

18 August 2026

نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی پرانی دوا “گوانابینز” (Guanabenz) بچوں کی نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری ‘وینشنگ وائٹ میٹر’ (VWM) کی پیش رفت کو سست کر سکتی ہے۔ یہ بیماری دماغ کے سفید مادے کو نقصان پہنچا کر بچوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بتدریج ختم کر دیتی ہے۔ تحقیق کے دوران تقریباً تین سال تک اس دوا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور نتائج کا موازنہ دوا نہ لینے والے 66 بچوں کے گروپ سے کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں میں وہیل چیئر کی ضرورت نسبتاً دیر سے پیش آئی اور اس گروپ میں کسی بچے کی موت واقع نہیں ہوئی، جبکہ دوسری جانب موازنے کے گروپ میں 5 بچے انتقال کر گئے۔ ماہرین نے اسے اس مہلک بیماری کے علاج کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔