LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد ضرور آئیں گے، پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، گورنر راج پر غور ہو رہا ہے: بیرسٹر عقیل موٹروے سمیت اہم قومی شاہراہیں آج شام سے ٹریفک کیلئے مکمل بند رہیں گی چینی صدر کا ٹرمپ پر تائیوان کو اسلحہ فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا امکان طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں، اسحاق ڈار کا مطالبہ احتجاج، دھرنے جاری، حافظ نعیم الرحمان کا لیوی ختم کرانے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ مفاہمت اور مکالمے سے سیاسی و معاشی استحکام آئے گا: چودھری سرور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزا، مختلف آپریشنز جاری ہیں: مریم نواز افغانستان سے منشیات سمگلنگ میں ملوث گروہ کیخلاف امریکا، پاکستان کی مشترکہ کارروائی پوتن اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو پاک روس مشترکہ فوجی مشق دروزبہ 9 اور پاک عمان مشق وشاق الجبل 2 کا آغاز سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی

پنجاب میں کھانسی کے کئی شربت اور ادویات ناقص قرار

Web Desk

21 November 2025

پنجاب ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے عام استعمال کی کئی ادویات، خصوصاً کھانسی کے شربتوں کی متعدد بیچز کو ناقابل معیار قرار دیتے ہوئے ان کی فروخت پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔

اتھارٹی کی طرف سے شہریوں، دکان داروں اور ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان خطرناک مصنوعات کو فوری طور پر واپس کریں۔

اتھارٹی کے باضابطہ الرٹ میں ان ادویات کے نام اور بیچ نمبر جاری کیے گئے ہیں، جن میں سب سے خطرناک ایریکوف کف سیرپ ہے، جس میں ڈائی ایتھائلین گلائیکول کی زائد مقدار پائی گئی ہے، یہ ایک زہریلا کیمیکل ہے جو انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ اس شربت کی فوری واپسی کا حکم دیا گیا ہے۔

پابندی کی زد میں آنے والی دیگر ادویات میں لوراٹیڈائن 10 ملی گرام کی گولیاں، سیف میڈ 100 ملی گرام اور مختلف مرہم شامل ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ جن کے پاس بھی یہ بیچز موجود ہوں وہ انہیں بلا تاخیر واپس کریں۔

دوسری جانب ہسپتالوں میں نزلہ، کھانسی، ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے صحت عامہ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔