LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار

ورزش سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دیتی ہے

Web Desk

14 February 2026

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش نہ کرنے والے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں طبی پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق، ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں تقریباً 24 لاکھ افراد شامل تھے۔

محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کو ٹریک کیا۔ تحقیق میں واضح ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

معتدل جسمانی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانا، یوگا، رقص یا گھر کے کام شامل ہیں، جبکہ سخت سرگرمیوں میں تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانا، رسی کودنا اور مشقت والے کام شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق ورزش نہ کرنے والے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد اور امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مؤثر ہیں، اور مریضوں کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے ورزش کو شامل کریں تاکہ مختلف طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔